مضمون نگار :- ڈاکٹر رفیع الدین ناصر (قومی اعزاز یافتہ معلم)

مولانا آزاد کالج، ڈاکٹر رفیق ذکریا کیمپس، اورنگ آباد

Introduction :-

سائنسی اور مادی اعتبار سے انسان نے بلندی کی اونچی چوٹیوں کو چھولیا ہے۔ علمبردار, علم و دانش نے ان سائنسی ایجادات کو اپنے نام کر لیا ہے۔ آج وہ جو ہر کو توڑنے اور اس کے ذریعہ ہیر وشما اور ناگا ساکی جیسے شہروں پر برسا کر پلک جھپکنے میں برباد کرنے کا گر جانتے ہیں ، خلاء میں زمین کے گرد چکر لگانے اور انتہائی نزدیک سے وینیس جیسے سیارے کی تصویر اتارنے میں بھی ماہر ہیں۔ تکنیکی استعمال سے تیار کردہ طرح طرح کے ویب ڈیوائسیس مشینی آلات ، سافٹ ویئر وغیرہ کے ذریعہ سائنس دانوں تکنیکی ماہرین اور کمپنیوں نے جو کام کیا ہے وہ انسانی زندگی کے لئے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔
اسرو (Asro) ، گوگل ہیم سنگ (Samsung) ، مانگر و میکس (Micro max) ، انڈیا گوگو(GoGo)، مائکروسافٹ (Microsoft) ، جی ایم جنرل الیکٹرانکس ، یورو چین اسپیس ایجنسی اور دوسرے کئی نامی گرامی ادارے جو اس شعبہ میں کام کر رہے ہیں۔ روبوٹکس سے لے کر سا ہر ٹیک تک اور گاڑیوں سے لے کر اسمارٹ فون تک سیکڑوں قابل قدر کوششیں سامنے آئی ہیں جس میں سے بیشتر کامیاب مستقبل کے لئے کار کر داور قابل ذکر ہیں۔

اس طرح کی ایک خاص تحقیق گوگل گلاس کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس خاص گلاس یا ٹینک کے استعمال سے آپ جو کچھ بھی دیکھتے ہیں اسے ساتھ
ہی ساتھ نہ صرف ریکارڈ کر سکتے ہیں بلکہ اسی وقت کہیں بھی بھیج سکتے ہیں ۔


سائنسی پیش قیاسی کرنے والوں کا کہتا ہے کہ آئند و دہائی مکمل انٹر نیٹ کی ہے یعنی آپ کی ساری چیزیں connect ہوں گی ، کپڑوں،
گھر بار، رسوئی ، ٹوتھ برش سے لے کر ریز رتک سب کچھ internet سے متعلق اور کار کرد ہو گا جس کا کنٹرول آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔

انسانی بقا کے لئے سائنس کی یہ ترقی قابل قدر ہے۔ بجلی کے بل بھرنے ، ٹیلی فون کے بل بھرنے ٹکٹ بک کروانے ،کسی سے appointment لینے
دوسرے کئی اہم امور کی سہولیات online جس سے انسان کا وقت اور پیسہ دونوں بچتا ہے۔ اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی تیزی سے عام ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی
بازار (global market)

کے تقاضے اب دنیا کے ممالک کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اپنے انفراسٹرکچر (infrastructure) کو ترقی یافتہ بنا ئیں۔ بہت جلد گلوبل اسکوئز
(global schools)کا دور شروع ہوگا بلکہ شروع ہو چکا ہے۔ اس وقت بھی دنیا میں کئی یونیورسٹیز میں جو انٹرنیٹ کے ذریعہ آن لائن کو سینز چلاتی ہیں خود ہمارے ملک میں
لاکھوں طلباء اس طریقہ سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں
انٹرنیٹ پر بھی آپ کو لیکچر مل جاتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر ہی سوال نامہ (Assignment) ای میل کے ذریعہ آپ جوابات بھیج سکتے ہیں اورای میل کے ذریعہ آپ کو اپنے پروفیسر کا تبصر مل جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر ہی آپ امتحان دیتے ہیں اور ای میل کے ذریعہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔

دوسری ٹکنالوجی جس کی اکیسویں صدی میں تیز رفتار ترقی متوقع ہے وہ بایوٹیکنا لوجی ہے۔ بایوٹیکنالوجی میں جنی یک ٹکنالوجی اور نیور وٹیکنالوجی میں خاص طور پر تیز رفتار ترقی متوقع ہے۔ جینک ٹکنالوجی کا تعلق جین سے ہے جین خلیہ میں پایا جانے والا ایک مادہ ہے، جین یا ڈی این اے میں پائے جانے والے مختلف کوڈ
انسانوں کی موروثی خصوصیات کو متعین کرتے ہیں ان میں مزاج ، صلاحیتیں ، چہرہ کی شکل ، شباہت ، چال ڈھال اور مختلف موروثی بیماریاں بھی شامل ہیں ۔

جنیٹک ٹکنالوجی
کے ذریعہ مصنوعی طریقوں سے جین کے اس کو ڈ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔
نیورو ٹکنالوجی انسانی اعصاب پر اثر انداز ہونے والی تکنالوجی ہے جو ان اعصابی نظام در اصل دماغ اور جسم کے تمام اعضاء و جوارح کے درمیان
مواصلاتی نظام ہے۔ اس تکنالوجی کے کئی فائدے ہوں گے، کئی موروثی بیماریاں جن کا علاج ناممکن ہے جنیک تکنالوجی کے ذریعہ قابل علاج ہو جائیں گی یا کم سے کم نومولود
بچوں کی موروثی اثرات سے بچایا جاسکے گا۔

سائنس داں کوشش کر رہے ہیں کہ جانوروں کے جین میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ ان سے حاصل ہونے والی غذا فائدہ مند اور
شفا بخش ہو۔ مثلا انڈے کولیسٹرول سے پاک ہوں ، دودھ ایسا ہو کہ اس سے مختلف بیماریوں کا علاج ممکن ہو سکے۔ اگر یہ تجربات کامیاب ہو جا ئیں تو علاج بے حد ارزاں ہوگا،

اس کے علاوہ پھلوں اور ترکاریوں کو نقصان دہ عناصر سے پاک کرنا، پیداوار میں اضافہ سال میں کئی دفعہ پیداوار حاصل کرنا وغیرہ فائدے بھی ہو سکتے ہیں۔فرنیچر بنانے والی سوئٹزر لینڈ کی مشہور کمپنی ” آئیکیا“ نے فرنیچر کے نئے ڈیزائن متعارف کرائے ہیں جن میں موبائل فونوغیرہ چارج کرنے کی سہولتموجود ہے۔

آئیکیا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی وائرلیس چار جینگ مصنوعات سے گھر اور آفس کے فرنیچر میں چار ھینگ کی شمولیت سے انفرادی چارجر کی ضرورتنہیں پڑے گی، یہ مصنوعات برطانیہ اور امریکہ میں اپریل 2015 ء سے فروخت کے لئے پیش کر دی گئی ہیں۔اسی طرح گوگل بہت جلد سیلولر نیٹ ورک کا آغاز کرے گا۔ موبائل بنانے والی کمپنی ایل جی اور ہوا وسانے ایڈورڈ آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والی نئی اسمارٹگھڑیاں متعارف کروائی ہیں ۔ یہ نئی گھڑیاں Metal framed یعنی دھات کے فریم کے ڈیزائن پر بنائی گئی ہیں، ان گھڑیوں میں فون کے ساتھ جوڑے بغیر فون کال کرنےاور پیغامات بھیجنے کی سہولت موجود ہے۔انسانی بقاء کے لئے دوزبانوں کی ڈکشنریوں کے دن اب گزر گئے ہیں۔

اب آپ ہر قسم کے ترجمے کی خدمات اپنے اسمارٹ فون سے لے سکتے ہیں۔ترجمہ کرنے کی ٹیکنا لوجی کو تین اقسام میں رکھا گیا ہے۔ بصری، مترجمین، زبانی مترجمین اور انسانی مترجمین ۔ مثال کے طور پر گوگل ٹرانسلیٹ کا ایپ کسی لفظ کا ترجمہ کر سکتا ہےجو آپ ٹائپ کرتے ہیں اور اس لفظ کو آپ بھی سن سکتے ہیں یہاں تک کہ وہ کسی چھپے ہوئے لفظ کو آپ کے اسمارٹ فون کے کیمرے کی مدد سے ترجمہ کر سکتے ہیں ۔ بالفرض آپکو کسی مضمون کا فوری طور پر درست ترجمہ درکا ر ہے تو آپ کو تیز ترین ترجمے کی خدمات ون اور ٹرانسلیشن (One hour translation) سے استفادہ کرنا چاہئے ، اس کےلئے آپ کو صرف اپنی دستاویز اس ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنا ہوگا اور اس کمپنی کے پندرہ ہزار پیشہ در مترجمین میں سے کوئی ایک تیزی کے ساتھ اس کا ترجمہ کر دے گا۔سیارے، سیارچے اور زلزلوں کے امکانات پر بھی سائنس نے کافی حد تک تحقیق کی ہے۔

آسٹریلوی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اب تکسیارچے کی ٹکر سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا علاقہ دریافت کیا ہے۔ ۴۰۰ کلومیٹر پر محیط یہ علاقہ زمین کی پرت میں انتہائی گہرائی میں دفن ہے اور اس میں دو جگہ تصادم کےنشانات ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تصادم ۳۰ کروڑ سال پہلے واقع ہوا ہوگا اور اس طرح انداز اسائنس بتا رہی ہے کہ چھ کروڑ سال پہلے شہابی پتھر کی ٹکر میں دنیا سےڈائنا سور کی نسل کا خاتمہ ہو گیا تھا۔سائنسی ایجادات نے پینٹنگ، موسیقی، مصوری، ترسیمی ادا کاری اور فوٹو گرافی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ میں کیریئر کے نئےمواقع فراہم ہوئے ہیں۔

سائنسی ترقی کی مدد سے آبپاشی پروجکٹوں سے زراعت کو حقیقی فائدہ حاصل ہو رہا ہے اور پانی کی بچت کے لئے مانگر و آبپاشی کا استعمال کیا جار ہا ہے۔ہر محکمہ اور آفس کے کام کاج شفاف اور بہتر بنانے کے لئے آفسوں میں سی سی کیمرے نصب کئے گئے ہیں، یہ بھی سائنسی ایجاد کی اہم کڑی ہے۔عمل جراحی میں سائنسکی جدید ٹکنالوجی مریض اور ڈاکٹر دونوں کے حق میں پیسے اور وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ بہترین نتائج کی ضامن رہی ہے۔

ماحول اور ترقیات کا بہترین تامل میل، بہترین سہولیات کی فراہمی بجلی کے ڈراپ آؤٹ کو کم کرنا ، صاف شفاف پانی کی فراہمی طبی خدمات کے معیارمیں اضافہ، پھل باغ بچانے کے لئے خصوصی اقدامات، خشک سالی اور قدرتی آفات سے بچنے کی تدابیر، یہ سب جدید سائنسی ایجادات کی دین ہے۔غرض انسانی زندگی میں سائنس اور ٹکنالوجی کی جدید ایجادات کی بڑی اہمیت ہے۔

دنیا کی تمدنی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ٹکنالوجی کی ترقیکا اثر صنعت و حرفت تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی زندگی کے تقریبا تمام ہی اہم گوشے اس سے بلا واسطہ یا بالواسطہ متاثر ہوتے ہیں اور استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ ٹکنالوجی کیاس ترقی نے انسانوں کو پہاڑوں اور جگنلوں سے نکال کر شہروں اور دیہاتوں میں بسایا۔ دیہات آباد ہوئے ، گھاس پھوس اور مٹی پتھر کے گھر بنے ، خاندان بنے ، پنچایتیں بنیں، رسم و رواج وضع ہوئے ، اصول و قوانین ترتیب پائے ، حکومتیں یا بادشاہتیں وجود میں آئیں۔

غرض کہ انسانی زندگی کے رنگ مکمل طور پر بدل گئے ۔ ایک نئی تہذیب اور نئےتمدن کی بنا پڑی۔سائنس ہی کی ترقی کی بنیاد پر چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کی جگہ بڑے پیمانے پر پیداوار کے مراکز قائم ہوئے۔ دیہات کی سادہ معاشرت کی جگہکا سموپولیٹن تہذیب نے لی ۔ مکتبوں، مدرسوں اور چھوٹی چھوٹی پاٹھ شالا ؤں کی جگہ بڑے بڑے اسکول اور یونیوریسٹیاں بنیں۔

گذشتہ دو تین صدیوں اور خصوصاً بیسویں صدی میں ہونے والی تیز رفتار سائنسی ترقیوں نے انسان کو کئی مہلک امراض سے نجات دلائی، تیز رفتار
سواریاں عطا کیں ، مواصلات کے ایسے تیز رفتار ذرائع عطا کئے جن کی وجہ سے پوری دنیا ایک جگہ مٹی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ بلاشبہ یہ سب عظیم نعمتیں جدید ٹکنالوجی کے نہایت
قابل قدر تھتے ہیں۔ یہ ترقی کہاں جا کر رکے گی اس کا تعین کرنا ابھی تک مشکل ہے۔ اس لئے علامہ اقبال نے کہا کہ

One thought on “جدید سائنسی تحقیقات اور انسانی زندگی”
  1. This article really breaks down the mechanics of shooter games in a way that’s easy to grasp. For those looking for a fun, beginner-friendly gaming experience, checking out phwin could be a great next step with its intuitive platform and engaging slots.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *