بھارت میں ٹیچر کا دن (Teacher’s Day) ہر سال 5 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن خاص طور پر استادوں کے احترام اور ان کی خدمات کے اعتراف کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر سروے پلی رادھا کرشنن کی سالگرہ کے موقع پر یہ دن منایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نہ صرف ایک ماہر تعلیم تھے بلکہ وہ بھارت کے دوسرے صدر بھی تھے۔ ان کی خدمات اور تعلیم کے میدان میں ان کے غیر معمولی کردار کی وجہ سے، ان کے یومِ پیدائش کو بھارت بھر میں استادوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

استاد کی اہمیت

بھارتی ثقافت میں استاد کو ایک بہت اعلیٰ مقام دیا گیا ہے۔ قدیم دور میں، بھارت میں “گروکل” کا نظام رائج تھا، جہاں استاد (گرو) اپنے شاگردوں کو زندگی کی تعلیم دیتے تھے۔ شاگرد اپنے گرو کی خدمت کرتے تھے اور گرو ان کو نہ صرف علمی علم بلکہ عملی زندگی کے اصول بھی سکھاتا تھا۔ آج کے دور میں بھی استاد کا کردار بے حد اہم ہے۔ وہ نئی نسل کو علم، اخلاقیات، اور زندگی کے اہم اصول سکھاتے ہیں۔

استاد کی محنت اور رہنمائی کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ استاد ایک ایسی شخصیت ہے جو نہ صرف طالب علموں کو علمی علم دیتی ہے بلکہ انہیں زندگی کے اہم پہلوؤں پر بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے طلباء کی زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، انہیں صحیح اور غلط کی پہچان کرواتا ہے، اور انہیں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔

 استاد کا دن منانے کا طریقہ

ٹیچر کا دن بھارت کے ہر کونے میں بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اس دن طلباء اپنے استادوں کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرتے ہیں، جن میں تعریفی تقاریر، تحفے دینا، اور تفریحی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ کچھ اسکولوں اور کالجوں میں طلباء خود ٹیچر بن کر کلاسز لیتے ہیں تاکہ وہ اپنے استادوں کی محنت اور ذمہ داریوں کو سمجھ سکیں۔

چیلنجز اور توقعات

حالانکہ ٹیچر کا دن استادوں کی عزت افزائی کے لیے منایا جاتا ہے، لیکن بھارت میں تعلیم کے میدان میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔ استادوں کو اپنی محنت اور علم کے باوجود بعض اوقات مناسب اعزاز اور مقام نہیں ملتا۔ تعلیمی نظام میں موجود خامیوں کی وجہ سے استادوں کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے کہ کم تنخواہیں، ناکافی وسائل، اور تعلیمی اداروں میں انفراسٹرکچر کی کمی۔ اس کے علاوہ، کئی مقامات پر استادوں کو ان کی محنت کے مطابق عزت اور مقام نہیں دیا جاتا، جس کی وجہ سے ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

اسی لیے اس دن کو منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ معاشرے میں استادوں کے لیے احترام کو فروغ دیا جائے اور ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے۔ استادوں کو ان کے جائز حقوق دینا، ان کی خدمات کا اعتراف کرنا، اور ان کے کام کو سراہنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر سروے پلی رادھا کرشنن کا تعلیمی سفر

ڈاکٹر سروے پلی رادھا کرشنن 5 ستمبر 1888 کو تمل ناڈو کے ایک چھوٹے سے گاؤں تروتانی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلیمی سفر بے حد شاندار تھا۔ انہوں نے مدراس کرسچین کالج سے فلسفہ میں گریجویشن کیا اور پھر وہی فلسفہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایک بہت ہی ذہین اور باصلاحیت طالب علم تھے، اور ان کی دلچسپی فلسفہ میں گہری تھی۔

رادھا کرشنن نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز 1909 میں مدراس ریزیڈنسی کالج سے کیا۔ اس کے بعد وہ کلکتہ یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھی بطور پروفیسر تعینات رہے۔ ان کی علمی کاوشوں اور تحریروں نے انہیں دنیا بھر میں مشہور کیا، اور وہ ہندوستان کے سب سے مشہور ماہرین تعلیم میں شمار کیے جانے لگے۔

سیاست میں ڈاکٹر رادھا کرشنن کا کردار

اگرچہ ڈاکٹر رادھا کرشنن ایک ماہر تعلیم تھے، مگر ان کی خدمات صرف تعلیم کے میدان تک محدود نہیں تھیں۔ انہوں نے سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1946 سے 1952 تک یونیسکو میں بھارت کے مستقل نمائندے کے طور پر کام کرتے رہے۔ 1952 میں، وہ بھارت کے پہلے نائب صدر بنے، اور 1962 میں، انہیں بھارت کا دوسرا صدر منتخب کیا گیا۔

استاد کا دن منانے کی روایت

ٹیچر کا دن منانے کی روایت ڈاکٹر رادھا کرشنن کی زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ جب وہ بھارت کے صدر بنے، تو ان کے شاگردوں اور دوستوں نے ان کے یومِ پیدائش کو بڑے پیمانے پر منانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس پر ڈاکٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ “میرے یومِ پیدائش کو الگ سے منانے کے بجائے، اسے ٹیچر کے دن کے طور پر منایا جائے تاکہ اس دن پر استادوں کی خدمات کو تسلیم کیا جا سکے۔”

اسی وقت سے بھارت میں 5 ستمبر کو ٹیچر کا دن منایا جانے لگا۔ اس دن کو منانے کا مقصد استادوں کی عظیم خدمات کو سراہنا اور ان کی عزت افزائی کرنا ہے، کیونکہ استاد وہ افراد ہیں جو معاشرتی ترقی کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

نتیجہ

ٹیچر کا دن بھارت میں استادوں کے احترام اور ان کی خدمات کو تسلیم کرنے کا دن ہے۔ یہ دن نہ صرف استادوں کی عزت افزائی کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم اور اساتذہ کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کو فروغ دینا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن کی زندگی اور خدمات ہمیں اس بات کی ترغیب دیتی ہیں کہ ہم اپنے استادوں کا احترام کریں اور ان کی محنت کو سراہیں۔

بھارت میں ہر سال 5 ستمبر کو ٹیچر کا دن منانے کی روایت، دراصل استادوں کی عظمت اور ان کی محنت کو سراہنے کی ایک خوبصورت روایت ہے۔ اس دن کو منانے سے ہم اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم اپنے استادوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کے لیے دل سے احترام رکھتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ استاد وہ روشنی ہے جو ہمارے ذہنوں کو علم اور شعور کی روشنی سے منور کرتی ہے، اور ہمیں ایک بہتر اور خوشحال معاشرہ بنانے کی راہ دکھاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *