(تحریر: افرا تسکین خان)

افسانہ: خود سے ملاقات

زندگی میں ہم ذمہ داریوں میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ خود سے ملنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔
بچپن، بڑے ہونے کے انتظار میں گزر جاتا ہے؛
اور جوانی، ذمہ داریوں کے بوجھ تلے کہیں دفن ہو جاتی ہے۔

کبھی بیٹا، کبھی شوہر، کبھی والد… اور اب دادا کے کردار میں ڈھل چکے نعیم صاحب پچھلے سال ہی ایک سرکاری اسکول سے ریٹائر ہوئے تھے، جہاں وہ گزشتہ چالیس برسوں سے درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
عمر نے ان کے قدم سست کر دیے تھے، مگر دل ابھی بھی چند دھڑکنیں سنبھال کر بیٹھا تھا۔

روز کی طرح آج بھی ان کی صبح چائے اور اخبار کے ساتھ صحن میں ہوئی۔ وہ ہمیشہ کہتے،
“چائے اور اخبار کا ساتھ روح کی غذا ہے۔”
لیکن آج ہفتہ تھا، اور ہر ہفتے کی طرح آج ان کا ادبی سفر بھی جاری رہنے والا تھا۔
شاعری سے عشق ان کی جوانی کا پہلا خواب تھا، جو وقت کی گرد میں کہیں دب گیا تھا۔

“گھر کے مرد کو کب خود کے لیے فرصت ملتی ہے…”
وہ اکثر خود سے کہتے۔
زندگی نے انہیں اتنا آگے دھکیل دیا تھا کہ وہ بھول ہی گئے تھے کہ کبھی وہ صرف “نعیم” بھی تھے — “ابو” یا “دادا” نہیں۔

چائے ختم ہونے کے بعد اچانک وہ اُٹھے اور ہال میں چلے گئے۔
ایک پرانی الماری کے قریب پہنچے، جو سالوں سے یوں ہی بند پڑی تھی۔
ساتھ ہی ایک اسٹڈی ٹیبل اور ایک بُک شیلف تھا، جو اقبال کی کلیات، فیض کی نظمیں اور پرانی کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔

“آپ کو کچھ چاہیے تو میں لا دیتی ہوں…”
بیگم نے آواز دی۔

نعیم صاحب نے نرمی سے کہا:
“نہیں، میں خود لے لوں گا… کیا پتہ وہ اب ہے بھی یا نہیں۔”

الماری جیسے خود کھلنے سے انکاری تھی، مگر آخرکار ایک چرچراہٹ کے ساتھ جھک گئی۔
نعیم صاحب نے پرانی فائلوں اور دستاویزات کے بیچ رکھی ایک پرانی ڈائری نکالی۔
اسے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں ایسی چمک آئی جیسے کسی بچے کو برسوں بعد کھویا ہوا کھلونا واپس مل گیا ہو۔

مطالعے کی میز پر بیٹھ کر انہوں نے ڈائری سے گرد صاف کی، چشمہ آنکھوں پر رکھا، اور پہلا صفحہ پلٹا۔
اقبال کا شعر لکھا تھا:

“خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے؟”

دوسرا صفحہ پلٹا تو ایک پرانی، ٹوٹی پھوٹی لیکن دل سے لکھی ہوئی غزل ان کے سامنے تھی۔
وہ مسکرائے، اور بیگم کو آواز دی:
“سنو ذرا، کچھ سناتا ہوں…”

بیگم کچن سے نکل کر دروازے پر آ کھڑی ہوئیں۔
نعیم صاحب نے دھیرے سے غزل سنانا شروع کی:

تیرے گیسو بکھر گئے جیسے
شام کے سائے اُتر گئے جیسے

آنکھ میں تیری خواب رہتے ہیں
چاند پانی میں ہنس پڑے جیسے

تیرے ملبوس کی مہک آئی
پھول صحرا میں کھل گئے جیسے

بات کرتے ہوئے رکی تو لگا
وقت کے پر کٹ گئے جیسے

تو جو پردے سے جھانکتی ہے کبھی
سارے منظر بدل گئے جیسے

غزل سن کر بیگم مسکرائیں۔
“آپ کے آنے سے ہمارے بہت سے خواب ادھورے رہ گئے،”
نعیم صاحب دھیمے لہجے میں بولے۔

بیگم ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں:
“تو اب مکمل کر لیجیے… ویسے بھی، غزل کو تھوڑی پالش کی ضرورت ہے!”

نعیم صاحب نے لمبا “ہمم…” کیا اور کہا:
“ویسے بھی، اگر قلم کی سیاہی سوکھ جائے، تو قلم کار دوسرا قلم اٹھاتا ہے… لکھنا بند نہیں کرتا۔”

اس دن کے بعد، روز صبح چائے کے ساتھ اخبار کے بجائے وہی ڈائری کھلتی۔
کبھی کوئی غزل مکمل ہوتی، کبھی کوئی پرانا خیال نیا رنگ پاتا،
اور کبھی زندگی کے بھولے ہوئے رنگ، لفظوں میں جاگ اُٹھتے۔

یوں، ریٹائرمنٹ کی زندگی “خود سے ملاقات” کا دوسرا نام بن گئی —
ایک نئی صبح، ایک نیا آغاز…
اور ایک بچھڑی ہوئی ذات سے دوبارہ تعارف۔

14 thoughts on “افسانہ:( خود سے ملاقات)”
  1. زندگی کا سفر ہے یہ ایسا سفر کوئی سمجھا نہیں کوئی جانا نہیں۔ بہت خوب

Leave a Reply to Noorjahan Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *