آج دوپہر سے ہی انیسہ کی بات میں ایک خاص جوش تھا، جیسے اس کا ارادہ شاپنگ کا معمولی منصوبہ نہیں بلکہ ایک خوشیوں بھرا جشن ہو جس میں رنگ، خوشبو اور زندگی کی مسکان چھپی ہو۔ اس نے مجھ پر قریب کے بازار تک ساتھ چلنے کے لیے حکم صادر کر دیا تھا۔ اور میں بھی اس کی بات پر لبیک کہتی ہوئی تیار ہو گئی۔کالج کی تھکن ابھی تک جسم پر بوجھ کی طرح تھی، لیکن بازار کی چہل پہل، دکانوں کی رونق، رنگین شیشوں اور چمکتے ہوئے سامان نے جیسے تھکن کو ہوا میں بکھیر دیا۔شام کا وقت تھا، تہواروں کی گہما گہمی نے بازار کو کسی خواب کی طرح روشن کر رکھا تھا۔ ہر طرف چہل پہل، رنگ، خوشبو اور شور کا ایسا امتزاج تھا کہ دل کو ایک ساتھ خوشی اور حیرت سے بھر دے۔ پارکنگ میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، گلیوں اور سڑکوں پر گاڑیاں ایک دوسرے کو دھکیلتی آگے بڑھ رہی تھیں، جیسے سبھی اپنی اپنی منزل کی جانب بے تاب ہوں۔
بازار کی رونق میں ایک عجیب سی حرارت تھی، اور ہر شخص اپنے شوق، ضرورت یا خواہش کی تکمیل میں مصروف تھا۔ٹریفک کا نظام بکھرا ہوا تھا، اور لوگوں کے چہرے تھکن، بے صبری اور جلد بازی کا عکس لیے ہوئے تھے۔ایسے میں انیسہ نے میری طرف دیکھ کر نرمی سے میرا ہاتھ تھام لیا۔وہ میری بہترین دوست تھیں۔ ساتھ ہی ہم عمر کزن بھی۔ ہماری اسکولنگ ساتھ ہی ہوئی تھی، اور کالج میں بھی اسکا اور میرا ساتھ قائم و دائم تھا۔اس کی آنکھوں میں ایک ساتھ دو احساسات جھلک رہے تھے —
دن بھر کی مشقت کا بوجھ اور بازار کے میں لوگوں کے ہجوم میں پریشانی کی ہلکی لہر،“عروج!” اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا، “سنو، یہاں تو بہت زیادہ رش ہے… کیا واپس چلے جائیں؟” ہم ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہوگئے۔ میں نے اس کی پریشانی کو محسوس کیا اور ہنس کر بولی۔ “کیا کرنا ہے،!! تم ہی تو شوق میں یہاں تک آئی ہو! ویسے بھی شاپ قریب ہی ہے… چلو، تھوڑا آگے چلتے ہیں!”یوں ہم دوبارہ ایک ساتھ آگے بڑھے۔ سورج کی مدھم سنہری کرنیں ہمارے چہروں کو چومتی ہوئی گہرائی میں پھیل رہی تھیں۔ آسمان پر وہ سنہری روشنی ایک نرم چادر کی طرح بچھ گئی تھی، جیسے دن کی وداعی اپنی دلکش گود میں ہمیں سہارا دے رہی ہو۔ پرندے اپنی یادوں کو پروں میں سمیٹتے، چہچہاتے ہوئے گھونسلوں کی طرف روانہ تھے، اور ان کی رفتاری میں ایک نوع کا سکون اور وعدہ تھا —
کہ ہر دن کا اختتام ایک نئی امید کا آغاز ہے۔تھوڑا آگے چلنے پر ہم مطلوبہ دکان پر پہنچ چکے تھے۔ دکاندار اپنی ہر چیز گراہک کو پیش کر رہا تھا، اور اس کے ملازمین مستعدی سے کام کر رہے تھے۔ دن بھر کی مشقت ان کے چہرے پر واضح تھی، لیکن خدمت میں کوتاہی کا نام و نشان نہ تھا۔ہم اپنا سامان لے کر دکان سے باہر آئے تو انیسہ نے بل میرے ہاتھ میں تھما دیا، “آج کچھ زیادہ ہی خریداری کر لی ہے… تین ہزار کا بل ہوا ہے… تم یہ اپنے پاس رکھ لو، تمھیں امی کا پتہ ہے نا، اتنا بل دیکھ کر ناراض ہوں گی!” میں نے وہ بل کو اپنی مُٹھی میں دبا لیا۔اسی لمحے ایک دکان کے کنارے ایک چھوٹا سا منظر میری نظر میں آ گیا۔ ایک بوڑھی عورت، جو شاید زندگی کی تھکن سے چور تھی، زمین پر ایک گٹھری کھولے بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے چند کھلونوں کا ایک چھوٹا سا اسٹال تھا —
رنگ برنگے کپڑوں سے بنی گڑیا، لکڑی کے چھوٹے جانور، ہاتھ سے بنے ہوئے جھنجنے اور چند سجی دھجی چوڑیاں۔ اس کے ساتھ ایک ناتجربہ کار بچی بیٹھی تھی، جس کے ہاتھ میں رنگین کپڑے کا ایک چھوٹا سا گلاب تھا، جو وہ گراہکوں کو دکھا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں ایک امید کی کو جگمگارہی تھی، شاید کوئی ان کے کام کو دیکھے، پسند کرے، اور خرید کر ان کے دن کو آسان کر دے۔میں رک گئی۔ میرے دل میں ایک نرم سا درد اٹھا، جیسے یہ منظر میرے اندر چھپے کسی خواب کو جگا رہا ہو۔ میں نے اس اسٹال کے پاس جا کر ایک گڑیا اٹھائی، اس کی خوبصورتی کو غور سے دیکھا اور اپنی پسند کی چیزیں منتخب کر کے ان کے ہاتھ میں تھما دی۔بوڑھی عورت کی آنکھوں میں حیرت اور شکر کا ملا جلا رنگ تھا، اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا، “بیٹی… اللہ تمہیں خوش رکھے… تمھاری زندگی روشن ہو…”چھوٹی بچی نے مسکراتے ہوئے اپنا گلاب میرے ہاتھ میں تھما دیا، “یہ آپ کے لیے…! میری آنکھوں میں نرمی کا سمندر موجزن تھا۔ میں نے اس گلاب کو دل کی گہرائی سے قبول کیا اور ان کے اسٹال سےسامان خریداری کر کے آگے بڑھنے لگی تھی کہ انیسہ نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا، اس کی آواز میں حیرت تھی، “عروج! کیا کر رہی ہو؟ کیوں بے کار چیزیں خریدنے میں پیسے ضائع کررہی ہو؟ یہ سب سستی سی چیزیں بہت جلدی خراب ہو جاتی ہے۔”میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “یہ چھوٹے دکاندار اپنی محنت سے اپنی روزی کماتے ہیں۔ ان کے پاس بڑا اسٹور نہیں، لیکن ان کے دل میں خواب ہوتے ہیں، امید ہوتی ہے۔ اگر ہم ان سے خریدیں تو ان کی مدد ہوتی ہے، ان کی زندگی آسان ہوتی ہے… صرف پیسوں کا لین دین نہیں، یہ ایک امید کا ہاتھ تھامنا ہے، ان کے دن کو بہتر بنانا ہے…”انیسہ خاموش ہو گئی، اس کی حیرت میں سوچ کا رنگ شامل ہو گیا۔بازار کی رونق، سورج کی مدھم روشنی، اور ایک چھوٹے اسٹال کے سامنے کھڑی دو نسلوں کی آنکھوں میں بسے خواب میرے دل میں چراغ بن گئے —
ایک ایسا چراغ جو مجھے ہر روز یاد دلاتا تھا کہ دل کی وسعت ہی زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔اس شام، اس چھوٹے سے اسٹال کے سامنے بیٹھے ان چہروں نے مجھے ایک سچ کا احساس دلایا — ہم اپنی راحت، تفریح، شوق اور ذاتی خوشیوں کے لیے بے حساب پیسہ خرچ کر دیتے ہیں، لیکن جب کسی مستحق کے دل کو سکون دینے کا موقع آتا ہے تو ہمارا دل تنگ ہو جاتا ہے، ہمارا ہاتھ رک جاتا ہے، ہمارا دم گھٹنے لگتا ہے۔کیا ان کو دیے جانے والے روپے اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ایک دل کی امید کو پورا نہ کر سکیں؟ کیا ایک چھوٹی سی مسکراہٹ اتنی مہنگی ہے کہ ہم اسے دینے سے ہچکچائیں؟میں نے اس دن اپنے دل سے وعدہ کیا کہ جہاں ممکن ہو، اپنی راحت کے ایک حصے کو دوسروں کی راحت کے لیے وقف کروں گی۔ چاہے ایک گڑیا خرید کر ان کے دل کو خوش کر دوں، چاہے ایک گلاب لے کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دوں — یہ سب صرف پیسوں کا لین دین نہیں، یہ انسانیت کی گواہی ہے، دل کی وسعت کا ثبوت ہے۔اس بازار کی شام، سورج کی سنہری کرنیں، انیسہ کی حیرت، اور ان چہرے کی آنکھوں میں بسا خواب میرے دل میں ایک چراغ بن گیا — جو مجھے ہر دن یاد دلاتا ہے کہ دل کی وسعت ہی زندگی کا سب سے خوبصورت سرمایہ ہے۔ یہ چراغ میرے ہر قدم کو روشنی بخشتا ہے، اور ہر ملاقات کو انسانیت کی خوشبو سے مہکا دیتا ہے۔

Masha Allah